​تحریر: مدثر اقبال چیمہ (رائٹر و دفاعی تجزیہ کار) — مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، امریکہ کا کردار اور پاکستان کا ’امن مشن‘

 تحریر: مدثر اقبال چیمہ (رائٹر و دفاعی تجزیہ کار) — مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، امریکہ کا کردار اور پاکستان کا ’امن مشن‘


​تحریر (Post Body):


​آج صبح چار بجے کا وقت عالمی تاریخ کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کی آخری گھنٹیاں بج رہی ہیں اور تہران کی 'وقت حاصل کرنے' کی پالیسی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ ہم ایک ہولناک عالمی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس پورے منظر نامے میں امریکہ بطور 'مین پلیئر' اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ اگر یہ بارود پھٹا تو شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔


​انسانیت کی فلاح اور پاکستان کا کردار:


اس نازک ترین موڑ پر، جہاں بڑی طاقتیں مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں، پاکستان ایک ایسی ریاست بن کر ابھرا ہے جس کا مقصد صرف 'انسانیت کی فلاح' اور عالمی امن کا قیام ہے۔ پاکستان کی پوری قیادت اس وقت دن رات سفارتی محاذ پر متحرک ہے تاکہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کو کسی طرح مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ بارود کے بجائے مکالمہ جیتے، کیونکہ یہ جنگ محض خطے کی نہیں بلکہ عالمی تباہی کا پیش خیمہ ہوگی۔ دنیا کی باشعور طاقتیں پاکستان کی اس مخلصانہ دوڑ دھوپ کو سراہ رہی ہیں۔


​منافق اور دشمن ممالک کی بے چینی:


افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں پاکستان انسانیت کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لیے کوشاں ہے، وہاں چند منافق اور دشمن ممالک کو پاکستان کا یہ بڑھتا ہوا عالمی وقار ہضم نہیں ہو رہا۔ وہ نہیں چاہتے کہ اس صلح کا راستہ پاکستان کے ذریعے نکلے۔ یہ دشمن طاقتیں پسِ پردہ سازشوں میں مصروف ہیں تاکہ مذاکرات ناکام ہوں اور پاکستان کی امن پسندی کے مشن کو نقصان پہنچے۔


​میرا مشاہدہ:


دفاعی اور خارجہ امور کے مشاہدے کی روشنی میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگلے چند گھنٹے انسانیت کا فیصلہ کریں گے۔ ایک طرف امریکہ کی پشت پناہی اور جنگ کے سائے ہیں، اور دوسری طرف پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی بے لوث کوششیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دنیا پاکستان کی آواز سن کر امن کا انتخاب کرتی ہے یا منافقوں کی سازشیں انسانیت کو آگ میں جھونک دیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

بڑی جنگ کی آہٹ: خاموش سمندروں میں چھپا بارود اور عالمی مہروں کی نئی بساط

ایران کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں، اندر ہے