ایران کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں، اندر ہے



مصنف: مدثر اقبال چیمہ

​آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ 28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو چکے ہیں۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت کی ہلاکت کے بعد تہران کی جانب سے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیاں کی گئیں، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایران کا اصل مسئلہ بیرونی ہے یا اندرونی؟

​پاکستان نے اس پورے بحران میں ایک انتہائی اہم اور توازن برقرار رکھنے والا کردار ادا کیا ہے۔ ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے (SMDA) کے تحت پاکستان، سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔ اپریل 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران ہی پاکستان نے سعودی عرب میں اپنے لڑاکا طیارے بھیجے، جو اس دفاعی عہد کا ایک عملی ثبوت تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے واشگاف الفاظ میں واضح کر دیا کہ پاکستان ایک طرف امن کا داعی ہے تو دوسری طرف اپنے اتحادیوں کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

​ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کی اپنی داخلی کشمکش ہے۔ ایران کی قیادت اس وقت "لیفٹ ونگ" اور "رائٹ ونگ" کے درمیان شدید تقسیم کا شکار ہے۔ یہ اندرونی خلفشار ہی ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد کے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ جب تک تہران کے اندر فیصلہ سازی کا نظام ایک مرکز پر متحد نہیں ہوتا، عالمی برادری کے لیے کسی بھی امن معاہدے پر بھروسہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ "مجھے نہیں معلوم ایران کا اصل لیڈر کون ہے،" دراصل اسی انتظامی مفلوج زدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

​اس داخلی انتشار کا سب سے بڑا نقصان ایران کی اپنی عوام اور خطے کے امن کو پہنچ رہا ہے۔ اگر ایران کی قیادت نے اپنی اندرونی تقسیم ختم نہ کی اور سعودی عرب کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسی برقرار رکھی، تو پاکستان ایک مشکل فیصلے پر مجبور ہو جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے لڑاکا طیارے، جو ابھی صرف دفاعی پوزیشن پر ہیں، سعودی عرب کی سالمیت کے لیے رخ تبدیل کر لیں۔ وقت ایران کے ہاتھ سے نکل رہا ہے اور اب اس کی بقا کا واحد راستہ اندرونی یکسوئی اور پاکستان کی "سمارٹ ڈپلومیسی" کو موقع دینے میں ہے۔

​🌐 International & Peace Hashtags:

​#GlobalPeace2026 #InternationalRelations #MiddleEastDiplomacy #PakistanSaudiAlliance #SmartDiplomacy #RegionalStability #Geopolitics #IranCrisis #PeaceMediation #SecurityStrategy #MudassarIqbalCheema #DiplomaticSolutions #EndTheWar #WorldPolitic


Comments

Popular posts from this blog

بڑی جنگ کی آہٹ: خاموش سمندروں میں چھپا بارود اور عالمی مہروں کی نئی بساط

​تحریر: مدثر اقبال چیمہ (رائٹر و دفاعی تجزیہ کار) — مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، امریکہ کا کردار اور پاکستان کا ’امن مشن‘