بڑی جنگ کی آہٹ: خاموش سمندروں میں چھپا بارود اور عالمی مہروں کی نئی بساط
بڑی جنگ کی آہٹ: خاموش سمندروں میں چھپا بارود اور عالمی مہروں کی نئی بساط تحریر: مدثر اقبال چیمہ دنیا کے سیاسی افق پر اس وقت ایک ایسی پراسرار خاموشی طاری ہے جو سکون نہیں بلکہ کسی ہولناک بے چینی کا احساس دلا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمندر کی لہریں جب حد سے زیادہ تھم جائیں، تو وہ کسی بڑے سونامی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ سے لے کر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک جو خاموشی نظر آ رہی ہے، وہ دراصل اس بارود کی بو ہے جو پسِ پردہ جمع کیا جا رہا ہے۔ سکوتِ عالم: امن یا جنگ کی تیاری؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا واقعی ساکن ہو چکی ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ خاموشی دراصل ان مہلک ہتھیاروں اور جنگی حکمت عملیوں کی ترتیب ہے جو دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے بند کمروں میں تیار کر رہی ہیں۔ عالمی طاقتیں اب براہِ راست ٹکرانے کے بجائے اپنے "مہروں" (Proxies) کے ذریعے ایک ایسی آگ بھڑکانا چاہتی ہیں جس کا ایندھن پوری انسانیت بن سکتی ہے۔ پاکستان کا کردار: کیا ہم ان سازشوں کو ناکام بنا پائیں گے؟ کیا پاکستان ان عالمی سازشوں کے خلاف کامیاب ہو پائے گا؟ یہ ایک بڑا سوال ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پا...
Comments
Post a Comment